ممبئی،10/فروری (ایس او نیوز/یواین آئی) مہاراشٹر میں سیاسی طورپر پچھڑ جانے والے مہاراشٹر نونرمان سینا(ایم این ایس)کے سربراہ راج ٹھاکرے نے آج یہاں دراندازوں کیخلاف جلوس نکال کر سی اے اے،این آرسی اور این پی آر کے حامیوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں موجودبنگلہ دیشیوں اور پاکستانیوں کوہرحال میں جانا ہوگاجبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان ہندوستانی ہیں،لیکن مورچہ اور دھرنے کے ذریعہ وہ طاقت اور اتحاد کا مظاہر نہ کریں۔
انہوں نے جنوبی ممبئی میں ہندوجمخانہ چوپاٹی سے آزادمیدان تک نکالے جانے والے مورچہ کے بعد جلسہ سے خطاب کیا اور کہا کہ یہ احتجاج غیرقانونی طورپر ملک میں مقیم پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کو (بھارت چھوڑدو) کے نعرے کے ساتھ کیا جارہا ہے اور انہیں ہرحال میں باہر جانا ہوگا۔اسے انہوں نے ایک صفائی مہم قراردیا۔راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ سی اے اے کے تحت پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان کی ستائی جانے والی اقلیت کو پناہ دینا ہے،لیکن تب سے حالات تبدیل ہوچکے ہیں۔ملک بھر میں مسلمان جگہ جگہ احتجاج کررہے ہیں اور مورچے نکال رہے ہیں،اس کا مقصد ملک نہیں جان سکا ہے،انہیں اپنی طاقت دکھانے کی کیا ضرورت ہے،ہم مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں،وہ ہمارے ہیں،مگر پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیر قانونی دراندازوں کے خلاف ہیں۔جن کی تعداد انہوں نے دوکروڑبتائی۔
راج ٹھاکرے نے کہا کہ سی اے اے،این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج اور مورچے کا ایم این ایس سامنا کرے گی،تلوار کا جواب تلوار سے اور پتھر کا جواب پتھر سے دیا جائیگا۔آج کے جلوس کے ذریعہ ہم نے ان لوگوں کو واضح پیغام دے دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ غیرقانونی افراد نے ملک میں داخل ہوکر یہاں کی معیشت کو نقصان پہنچا یا ہے،ملازمتوں پر قبضہ کرلیا،ہماری خواتین سے چھیڑچھاڑ کرتے ہیں اور جرائم اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں جبکہ مراٹھی مسلمان جہاں بھی رہائش پذیر ہیں،وہاں فساد نہیں ہوتے ہیں۔